فهرس الكتاب

الصفحة 41 من 216

دونوں کی برائی کو ایک ہی جگہ واضح کیا گیا ہے۔ ایسی تین نصوص ذیل میں ملاحظہ فرمائیے:

۱:اللہ عزوجل نے فرمایا:

{فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ} [1]

''بتوں کی گندگی سے بچو ، اور قول زور سے بچو۔''

''زور'' سے مراد … جیسا کہ علامہ قرطبی نے بیان کیا ہے… باطل اور جھوٹ ہے اور اس کو [زور] اس لیے کہا جاتا ہے ، کیونکہ وہ حق سے ہٹا ہوتا ہے۔ [2]

اس آیت کی تفسیر میں علامہ شنقیطی رقم طراز ہیں: '' اس آیت کریمہ میں [اللہ تعالیٰ نے] [قول زور] سے اجتناب کا حکم دیاہے اور وہ جھوٹ اور باطل ہے۔'' [3]

اس آیت کریمہ میں یہ بات واضح ہے ، کہ اللہ تعالیٰ نے بتوں کی پرستش کی ممانعت کے ساتھ ہی جھوٹ سے منع فرمایا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے بیان کیا ہے: ''یہاں [مِنْ] جنس کے بیان کے لیے ہے ، یعنی نجاست سے اجتناب کرو، اور وہ [نجاست] بت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کو، جھوٹ کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، [کہ انہوں نے فرمایا] :''جھوٹی گواہی [إِشْرَاکٌ بِاللّٰہ] [4] کے برابر ہوئی۔'' پھر انہوں نے اس آیت کو [بطورِ دلیل] پڑھا۔'' [5]

ب: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

'' أَ لَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟''

''کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں ؟''

[2] ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۱۲؍۵۵۔

[3] أضواء البیان ۵؍۶۸۹۔

[4] اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔

[5] تفسیر ابن کثیر ۳؍۲۴۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت