فهرس الكتاب

الصفحة 42 من 216

قُلْنَا: '' بَلیٰ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!''

ہم نے عرض کیا: ''کیوں نہیں یا رسول اللہ!''

قَالَ ثَلَاثًا:''اَلْإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔''

وَکَانَ مُتَّکِئًا ، فَجَلَسَ، فَقَالَ:'' أَلَا وَقَوْلُ الزُّوْرِ ، وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ ، أَلَا وَقَوْلُ الزُّوْرِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔''

فَمَا زَالَ یَقُوْلُھَا ، حَتَّی قُلْتُ: '' لَا یَسْکُتُ۔'' [1]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا:''اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی۔''

[اس وقت ] آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: ''خبردار!اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی ، خبردار! اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دہراتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے [اپنے دل میں ] کہا: ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہ ہوں گے۔''

امام مسلم کی روایت میں ہے:

'' کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم فَقَال:'' أَلَا أُنبِّئُکُمْ بِأَکْبِرِالْکَبَائِرِ؟ '' ثَـلَاثًا۔ [2]

''ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، تو آپ نے فرمایا:''کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں ۔'' (تین مرتبہ) [3]

اس حدیث شریف میں جھوٹ سمیت مذکورہ گناہوں کی سنگینی کو اُجاگر کرنے والی

[2] صحیح مسلم ، کتاب الإیمان،باب بیان الکبائر وأکبرھا،رقم الحدیث۱۴۳ (۸۷) ،۱؍ ۹۱۔

[3] یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت