فهرس الكتاب

الصفحة 153 من 216

[بلاشبہ جو لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کے ساتھ تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں ، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ، اور اللہ تعالیٰ روزِ قیامت نہ ان سے ہم کلام ہوں گے، اور نہ ان کی طرف دیکھیں گے ، اور نہ انہیں پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔]

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کے لیے شدید ترین سزاؤں کی وعید سنائی ہے ، جو کہ دنیا کے حقیر سازو سامان کی خاطر عہد توڑتے اور جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں ۔ [1]

آیت کریمہ میں درج ذیل پانچ قسم کی سزاؤں کی وعید ہے:

۱: ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں: {أُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ} ۔ {لَا خَلَاقَ} کی تفسیر میں امام بخاری نے لکھا ہے:'' لا خیر'' [2] یعنی کوئی خیر ان کے لیے نہ ہو گی۔

حافظ ابن کثیر نے تحریر کیا ہے، کہ اس سے مراد ''لَا نَصِیْبَ لَھُمْ فِیْھَا، وَلَا حَظَّ لَھُمْ مِنْھَا'' [3] ہے یعنی ان کے لیے آخرت میں بالکل کوئی حصہ نہیں ۔

۲: اللہ تعالیٰ ان سے گفتگو نہ فرمائیں گے {وَ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ} : اس کی تفسیر میں متعدد اقوال میں سے تین درج ذیل ہیں:

ا۔ یعنی ان سے اس طرح گفتگو نہ فرمائیں گے، کہ جس طرح نیک اعمال کرنے والوں سے خوش اور راضی ہو کر گفتگو کریں گے ، بلکہ ان کے ساتھ غصے اور ناراضی کے ساتھ گفتگو فرمائیں گے۔

[2] ملاحظہ ہو: صحیح البخاری ،کتاب التفسیر، ۸؍۲۱۲۔

[3] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۱؍۴۰۲؛ نیز دیکھیے: عمدۃ القاري ۱۱؍۲۰۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت