فهرس الكتاب

الصفحة 114 من 216

استدلال کرنا درست نہیں ۔ ذیل میں توفیق الٰہی سے ائمہ محدثین کے بیان کردہ معانی سے تین پیش کیے جارہے ہیں:

ا۔ ان الفاظ کا تاکید کے لیے ہونا:

علامہ قرطبی نے تحریر کیا ہے: اگر یہ [الفاظ] ثابت بھی ہوں ، تو تاکید کے لیے ہوں گے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ہے:

{فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ} [1]

[تو اس سے بڑا ظالم کون ہو گا ، جو بلا دلیل اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت باندھے، تاکہ لوگوں کو گم راہ کرے۔]

اور امام طحاوی نے بیان کیا ہے ، کہ اللہ تعالیٰ پر ہر صورت میں جھوٹی تہمت باندھنا حرام ہے ، خواہ اس کا مقصود کسی کو گم راہ کرنا ہو ، یا نہ ہو۔ [2]

ب۔ ان کا انجام کے بیان کی خاطر ہونا:

امام نووی نے تحریر کیا ہے: بلاشبہ [لِیُضِلَّ] میں [لام] بیان علّت کی غرض سے نہیں ، بلکہ عاقبت اور انجام کے بیان کرنے کے لیے ہے ، اور [آیت کریمہ] کا معنی یہ ہے ،کہ اس کے جھوٹ کا نتیجہ دوسرے لوگوں کو گم راہ کرنا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد:

{فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَھُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا} [3]

[سو فرعون کے لوگوں نے اس [بچے] کو اُٹھا لیا ، کہ آخر کار یہی بچہ ان کا دشمن ہو اور ان کے لیے باعث رنج بنے۔]

[2] ملاحظہ ہو: المفہم۱؍۱۱۵؛ نیز ملاحظہ ہو: شرح النووي ۱؍۷۱۔

[3] سورۃ القصص؍ جزء من الآیۃ ۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت