فهرس الكتاب

الصفحة 118 من 216

{وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی اللّٰہِ وُجُوْہُہُمْ مُسْوَدَّۃٌ} [1]

[اور روزِ قیامت آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے ، جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔]

اور ہم نے اس کو [باء] کی زبر کے ساتھ بھی روایت کیا ہے اور اس طرح یہ صیغہ تثنیہ کے لیے ہو گا ،ا ور معنی یہ ہوگا ، کہ اس کے بار ے میں جھوٹ ہونے کا ظن یا علم رکھنے والے دونوں اشخاص: ایک بیان کرنے والا اور دوسرا سننے والا ،جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ ایک جھوٹ بیان کرنے کی بنا پر ، اور دوسرا جھوٹ کا علم یا غالب ظن ہونے کے باوجود اسے لینے کی بنا پر۔ [2]

علامہ قرطبی نے مزید لکھا ہے: اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے ، کہ کوئی شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کو اس کے سچ ہونے کے علم یا ظن غالب حاصل ہونے کے بغیر روایت نہ کرے ، البتہ اگر مقصود اس حدیث کے جھوٹ کا بیان ہو ، تو اس پر یہ حدیث چسپاں نہ ہوں گی۔ [3]

امام نووی تحریر کرتے ہیں: اس حدیث کی فقہ ظاہرہے۔ اس میں درو غ گوئی اور اس کو نقل کرنے کے بارے میں سختی کی گئی ہے۔ جو شخص کسی ایسی بات کو روایت کرے ، جس کے جھوٹ ہونے کے بارے میں اس کا ظن غالب ہو ، تو وہ خود بھی جھوٹا ہو گا۔ وہ جھوٹا کیوں کر نہ ہو گا ، جب کہ وہ ایسی بات ہونے کی خبر دے رہا ہے، جو سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ [4]

علاوہ ازیں امام مسلم نے اپنی کتاب [الصحیح] کے مقدمہ میں تحریر کیا ہے:

[2] ملاحظہ ہو: المفہم ۱؍۱۱۲؛ نیز ملاحظہ ہو: شرح الطیبي ۲؍۶۶۰۔

[3] ملاحظہ ہو: المفہم ۱؍۱۱۲۔

[4] ملاحظہ ہو: شرح النووي ۱؍۶۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت