فهرس الكتاب

الصفحة 129 من 216

ب: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

'' لَیْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعی لِغَیْرِ أَبِیْہِ ـــ وَھُوَ یَعْلَمُہُ ـــ إِلاَّ کَفَرَ بِاللّٰہِ۔'' [1]

''جس شخص نے جانتے ہوئے اپنے باپ کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت کی ، تواس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا۔''

بعض شارحین حدیث نے بیان کیا ہے ، کہ اس کے اس عمل کو کفر قرار دینے کا سبب یہ ہے ، کہ اس نے اپنی اس بات سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے ، کیوں کہ اپنی بیان کردہ نسبت کے ساتھ، گویا کہ یوں کہہ رہا ہے:''اللہ تعالیٰ نے مجھے فلاں شخص کے پانی سے پیدا کیا ہے۔'' حالانکہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے اس کو دوسرے شخص کے پانی سے پیدا فرمایا تھا۔ [2]

۳: لعنت کا مستحق ہونا:

۴: اعمال کا قبول نہ ہونا:

امام مسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا ، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' مَنِ ادَّعَی إِلَی غَیْرِ أَبِیْہِ أَوْ انْتَمَی إِلَی غَیْرِ مَوَالِیْہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکۃَِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ۔ لَا یَقَبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ

[2] ملاحظہ ہو: فتح الباری ۱۲؍۵۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت