دوسری سزا: تمام معاملات میں تازندگی شہادت مسترد:
اس پر آیت کریمہ کا یہ حصہ: {وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَدًا} دلالت کرتا ہے۔ [1]
قاضی ابو سعود اپنی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں:''یعنی ساری زندگی۔'' [2] اور شیخ قاسمی نے لکھا ہے: ''ان کے جھوٹ ظاہر ہونے کی بنا پر کسی بھی واقعہ میں [ ان کی گواہی قبول نہ کرو] ۔'' [3]
تیسری سزا: [فاسق] کالقب:
اس پر آیت کریمہ کا یہ حصہ: {وَأُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ} دلالت کرتا ہے۔ [4]
قاضی ابو سعود نے تحریر کیا ہے:''سابقہ کلام کی تاکید اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ، ان کی گھٹیا حیثیت کو بیان کرنے کی غرض سے جدید کلام ہے۔ اسم اشارہ [أُوْلٰٓئِکَ] میں موجود دُوری کے معنی میں ان کے شر و فساد میں بہت آگے نکل جانے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی وہ ایسے لوگ ہیں ، کہ نافرمانی ، اطاعت گزاری سے نکلنے اور حدود سے تجاوز کرنے کا ان پر حکم لگایا گیا ہے۔ وہ ان خصلتوں میں اس حد تک آگے بڑھے ہوئے ہیں ، کہ گویا کہ لقب [فاسق] کے وہ تنہا ہی مستحق ہیں اور ان کے سوا کوئی دوسرا مستحق نہیں ۔'' [5]
ج۔ مسلسل لعنت کا پانا:
اس کا ذکر اس ارشادِ ربانی میں ہے:
إِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ یَّوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ أَلْسِنَتُہُمْ وَأَیْدِیْہِمْ وَأَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیہِمُ
[2] تفسیر أبي السعود ۶؍۱۵۸۔
[3] تفسیر القاسمي ۱۲؍۱۳۳۔
[4] ترجمہ:''اور یہی لوگ وہ فاسق ہیں۔''
[5] تفسیر ابي السعود ۶؍۱۵۸۔