فهرس الكتاب

الصفحة 156 من 216

''یمین غموس کیا ہے؟''

انہوں نے جواب دیا: '' اَلَّذِيْ یَقْتَطِعُ مَالَ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ ، ھُوَ فِیْھَا کَاذِبٌ''

''کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے جان بوجھ کر کھائی جانے والی جھوٹی قسم۔'' [1]

اس حدیث شریف میں موجود لفظ [الکبائر] [بڑے گناہ] سے مراد [أَکْبَرُ الْکَبَائِرِ ] [بڑے گناہوں میں سے بھی سب سے بڑے گناہ ہیں ] ۔ اس بات پر امام احمد کی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت کردہ حدیث دلالت کرتیہے ، کہ اس میں [الکبائر] کی بجائے [أَکْبَرُ الْکَبَائِرِ ] کے الفاظ ہیں ۔ [2] اس بات کی تائید امام ترمذی کی حضرت عبداللہ بن انیس الجہنی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کردہ حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ [3]

خلاصۂ گفتگو یہ ہے، کہ بہت ہی بڑے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کی غرض سے جھوٹی قسم کھانا ہے۔ اس بات کی تائید امام طبرانی کی حضرت ابورھم السمعی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کردہ حدیث سے بھی ہوتی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

'' وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْخَطَایَا مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِیء مُسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ۔'' [4]

[2] ملاحظہ ہو: فتح الباري ۱۱؍۵۵۷۔

[3] یہ حدیث ص۱۵۸۔۱۵۹پر ملاحظہ فرمائیے۔

[4] منقول از: مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب الأیمان والنذور، باب فیمن یحلف یمینًا کاذبۃ یقتطع بھا مالًا ، جزء من الحدیث، ۴؍۱۸۱۔ حافظ ہیثمی نے اس کے متعلق لکھا ہے:''الطبرانی نے اسے [المعجم] الکبیر میں روایت کیا ہے، اور اس کے راویان ثقہ ہیں، بعض کے بارے میں کلام کی گئی ہے [لیکن] اس سے کچھ ضرر نہیں۔'' (المرجع السابق ۴؍۱۸۱) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت