فهرس الكتاب

الصفحة 193 من 216

مبحث چہارم

جھوٹ بولنے کی اجازت کے مواقع

ا: اس کے متعلق تین احادیث

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ حالتوں میں جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے۔ اس بارے میں ذیل میں تین احادیث شریفہ درج کی جارہی ہیں:

ا: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

'' لَیْسَ الْکَذَّابُ الَّذِيْ یُصْلِحُ بَیْنَ النَّاسِ فَیَنْمِيْ خَیْرًا أَوْ یَقُوْلُ خَیْرًا۔'' [1]

'' وہ کذاب نہیں ، جو کہ لوگوں کے درمیان صلح کرواتے ہوئے اچھی بات نقل کرتا ہے، یا خیر کی بات کرتا ہے۔ ''

اس حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے جھوٹے ہونے کی نفی فرمائی ہے، جو کہ لوگوں کے درمیان اصلاح کی خاطر کچھ بات کرتا ہے۔ امام بخاری نے اس حدیث پر ان الفاظ میں عنوان قائم کیا ہے:

[ بَابٌ لَیْسَ الْکَاذِبُ الَّذِيْ یُصْلِحُ بَیْنَ النَّاسِ۔] [2]

[ لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے والے کے جھوٹا نہ ہونے کے متعلق باب] ۔

[2] صحیح البخاري، کتاب الصلح، ۵؍۲۹۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت