فهرس الكتاب

الصفحة 197 من 216

{بَلْ فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ } [1]

[بلکہ ان کے بڑے نے کیا ہے۔]

اور {إِنِّيْ سَقِیْمٌ} [2]

[بلاشبہ میں بیمار ہوں ۔ ]

اور '' قَالَ:'' أُخْتِيْ۔'' [3]

[یقینا وہ میری ہمشیرہ ہے۔ ]

اور یوسف علیہ السلام کے منادی کرنے والے کے قول:

{أَیَّتُھَا الْعِیْرُ إِنَّکُمْ لَسٰرِقُوْنَ} [4]

[اے قافلہ والو! بلاشبہ تم چور ہو۔]

سے استدلال کیا ہے۔ ان کے نزدیک قابل مذمت جھوٹ وہ ہے ، جس میں ضررہو۔

بعض دوسرے علماء نے، جن میں امام طبری بھی شامل ہیں ، کہا ہے: '' کسی بھی چیز کے متعلق جھوٹ بولنا قطعی طور پر جائز نہیں ۔ ''

انہوں نے مزید کہا ہے: اس بارے میں جھوٹ کے جواز کے سلسلہ جو کچھ وارد ہوا ہے، اس سے مراد توریہ اور تعریضات کا استعمال کرنا ہے، صریحًا جھوٹ بولنا مراد نہیں ، مثال کے طور پر وہ اپنی بیوی سے وعدہ کرتا ہے، کہ وہ اس کے ساتھ احسان کرے گا، اس کو فلاں چیز پہنائے گا، تو وہ دل میں [ساتھ ہی] نیت کرلے، کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنا مقدر فرمایا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ وہ ذو معنی کلمات استعمال کرے

[2] سورۃ الصافات؍ جزء من رقم الآیۃ ۸۹۔

[3] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب البیوع، باب شراء المملوک من الحربي وھبتہ وعتقہ، رقم الحدیث ۲۲۱۷، ۴؍ ۴۱۰۔ نیز دیکھیے: المرجع السابق، کتاب الطلاق، باب إذا قال لامرأتہ، وھو مُکْرَہٌ: '' ھذہ أختي '' فلا شيء علیہ، ۹؍۳۸۷۔

[4] سورۃ یوسف ۔ علیہ السلام۔ ؍ جزء من الآیۃ ۷۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت