حدیث سے مقدور بھر استفادہ کیا گیا ہے۔
۵: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین کے کچھ ایسے واقعات کو ذکر کیا گیا ہے ، جن سے جھوٹ کے متعلق ان کی نفرت واضح ہوتی ہے۔
۶: صورتِ احوال کو اچھی طرح نکھارنے کی غرض سے جھوٹ کی چند ایک رائج الوقت شکلوں کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔
۷: کتاب کے آخر میں مصادر و مراجع کے متعلق تفصیلی معلومات درج کر دی گئی ہیں ۔
شکر و دعا:
اپنے رب رحیم و کریم کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں ، کہ انہوں نے مجھ ناچیز کو اس اہم موضوع کے بارے میں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ فَلَـہُ الْحَمْدُ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَرِضیٰ نَفْسِہٖ و َمِدَادَ کَلِمٰتِہٖ۔
رب ذوالجلال والإ کرام میرے والدین محترمین کی قبروں پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائیں ، کہ انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے لیے خوب جدو جہد فرمائی (رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا)
اللہ تعالیٰ میری اہلیہ محترمہ کو میری مصروفیات کا خیال رکھنے اور میری خوب خدمت کرنے کے عوض دنیا و آخرت میں بہترین جزا عطا فرمادیں ۔عزیزان القدر حافظ سجاد الٰہی اور عمر فاروق قدوسی کے لیے دعا گو ہوں کہ انہوں نے کتاب کی مراجعت میں تعاون کیا ۔ جزاھما اللہ تعالیٰ خیرًا فی الدارین۔
اللہ تعالیٰ مجھے، میرے اہل و عیال ، تمام اہل اسلام اور ان کے اہل و عیال کو جھوٹ سے محفوظ رکھیں اور ہم سب کے اہل و عیال کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دیں ۔ إِنَّہٗ سَمِیْعٌ مُجِیْب۔
اللہ کریم اس معمولی کاوش کو قبول فرما ئیں اور اسے میرے لیے ، میرے اہل و