'' آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَاحَدَّثَ کَذَبَ ، وَإذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اْئْتُمِنَ خَانَ۔'' [1]
''منافق کی نشانیاں تین ہیں: جب بات کرے ، تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے ، تو خلاف ورزی کرے ، اور جب [اس کے ہاں ] امانت رکھی جائے ، تو خیانت کرے۔''
امام مسلم کی روایت میں ہے:
'' وَإِنْ صَامَ وَصَلَّی ، وَزَعَمَ أَنَّہُ مُسْلِمٌ۔'' [2]
''اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور دعویٰ کرے، کہ وہ مسلمان ہے۔''
ملا علی قاری نے شرح حدیث میں تحریر کیا ہے: ''إِذَا حَدَّثَ کَذَب'' ''وہ [یعنی جھوٹ بولنا] تینوں میں سے بد ترین [خصلت] ہے۔ [3]
علامہ رحمہ اللہ تعالیٰ شرح حدیث میں مزید لکھتے ہیں: (اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے) :دونوں [روزے اور نماز] کا ذکر بات کی پختگی اور استیعاب کے لیے ہے۔ مقصود یہ ہے ، کہ اگرچہ وہ روزہ ، نماز وغیرہ کی مسلمانوں والی عبادات ادا کرے اور کامل مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے۔ [4]
علامہ غزالی نے ان تین علامات کے ذکر کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے:''صرف انہی تین علامتوں کے ذکر کرنے کی حکمت یہ ہے ، کہ یہ دیگر[بُری
[2] المرجع السابق ، رقم الحدیث ۱۰۹ (۵۹) ، ۱؍۷۸۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ۱؍۲۲۵۔۲۲۶ باختصار۔
[4] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱؍۲۲۶۔