فهرس الكتاب

الصفحة 93 من 216

اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں ]، یہودیوں نے کہا [عزیر۔ علیہ السلام ۔ اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں ] اور مشرکوں نے کہا: [ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ] ۔ اللہ تعالیٰ ان کی جھوٹی باتوں سے بلند و بالا ہیں ۔'' [1]

شیخ قاسمی لکھتے ہیں: {لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا إِدًّا} [2] : یعنی بہت بُری [بات] ۔ ان کی اس غلط بات کی تردید کرتے ہوئے اور اس کی غلطی کو بیان کرتے ہوئے صیغۂ غائب [3] کے استعمال میں اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضی کا اظہار ہے ، اور اس سے ان کی غایت درجہ کی مذمت ٹپکتی ہے اور ان [لوگوں ] پر یہ حکم چسپاں ہو تا ہے ، کہ وہ شرم اور حیا سے عاری ہونے اور جہالت میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں ۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا، کہ مقام ربانی کی توحید پر غیرت کے سبب قریب ہے ، کہ آسمان پھٹ جائیں ، زمین میں شگاف پڑ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں ، کیوں کہ یہ تو ایسی بات ہے ، کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہیں اور اس بات کے ثابت ہونے کا معاذ اللہ معنی یہ ہے، کہ وہ محتاج ہیں ، ان کا کوئی ہم سر ہے اور وہ فنا ہو جائیں گے۔ [4]

ج: امام مسلم نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، کہ انہوں نے بیان کیا:''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

''جب روزِ قیامت ہو گا ، تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: ''ہر گروہ کے لوگ اس کے پیچھے جائیں ، جس کی وہ عبادت کیا

[2] ترجمہ:''بلاشبہ تم نے بہت سنگین گناہ کیا ہے۔''

[3] اس میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد: {وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا} [اور انہوں نے کہا، کہ رحمن نے بیٹا بنا یا] اور {أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا} [یہ کہ انہوں نے رحمن کا بیٹا ثابت کیا] کی طرف اشارہ ہے۔

[4] ملاحظہ ہو: تفسیر القاسمي ۱۱؍۱۴۸۔۱۴۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت