فرمائے۔
یعنی یہ لوگ ہمیشہ اختلاف کا شکار رہیں گے اور بچیں گے صرف وہی جن پر اللہ کی رحمت ہوگی۔ اور یہ رحمت تعلق بالوحی کے ذریعہ ہی حاصل ہوسکتی ہے ۔
[وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۰ۭ فَسَاَكْتُبُہَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ۔ اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ ] [1]
ترجمہ: اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻلاتے ہیں ۔جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں۔۔۔
وحی الٰہی تمام اختلافات سے پاک ہے اور وہی تمام اختلافات کا خاتمہ کرسکتی ہے
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ کی تمام دستاویزات کو اختلاف کا مرقع قرار دیا ہے:
[وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللہِ لَوَجَدُوْا فِيْہِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا ] [2]
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقینًا اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے ۔
لہذا اللہ کی وحی ہی وہ واحد طاقت ہے جو تمام اختلافات کا خاتمہ کرسکتی ہے اس لئے وحی سے فیصلہ نہ کرانے پر ایمان کی سلامتی مشکوک ہوجاتی ہے ۔
[2] النساء:۸۲