فهرس الكتاب

الصفحة 162 من 380

سے حرام کے ارتکاب کا اندیشہ ہو ۔ [1]

قلبِ سلیم کی اہمیت

۴۔حدیث کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی جسم کے ایک ٹکڑے یعنی دل کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر وہ درست ہے تو پورا جسم درست ہے اگر فاسد ہے تو پورا جسم فاسد ہے ۔

درست دل کو قلب سلیم کہتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ کافرمان:

[يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ۔ اِلَّا مَنْ اَتَى اللہَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ] [2]

جس دن کہ مال اور اولاد کچھ کام نہ آئے گی ۔لیکن فائده والا وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے:

[اللھم انی اسالک قلبا سلیما ] [3]

'' اے اللہ: میں تجھ سے قلب سلیم کا سوال کرتا ہوں ''

قلب سلیم بہت ضروری ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:

[ لایستقیم ایمان عبد حتی یستقیم قلبہ] [4]

[2] الشعراء:۸۸،۸۹

[3] نسائی،الرقم:۱۳۰۴

[4] مسنداحمد،الرقم:۱۳۰۴۸

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت