فهرس الكتاب

الصفحة 210 من 380

جنت میں جائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا [ھی الجماعۃ ] یعنی وہ جماعت ہے ۔اب جماعت کا معنی واضح ہوگیا ، کہ جماعت اس گروہ کانام ہے جو اس چیز کو تھامے جس چیز کو اللہ کے پیغمبر نے او رانکے صحابہ نے تھاما ، باقی سب فرقے ہیں ، اس جماعت کا تشخص آپ کے سامنے واضح ہوگیا ، یعنی کتاب و سنت کی روشنی میں جماعت وہ ہے جو قرآن و حدیث پر قائم ہو۔ اب جو اس جماعت سے الگ ہوگا وہ فرقہ ہے۔

فرقہ بندی کانقصان اور امت محمدیہ میں اس کاآغاز

اور فرقہ بندی کا نقصان کیا ہے ؟ نقصان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں چھوڑدے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

'' یداللہ علی الجماعۃ '' [1]

یعنی اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔

نیز فرمایا:

''الجماعۃ رحمۃ والفرقۃ عذاب '' [2]

یعنی جماعت رحمت ہے اور تفرق عذاب ہے ۔ تو شریعت فرقہ بندی کو عذاب قرار دیتی ہے ۔

اس امت میں افتراق کی تاریخ خوارج سے شروع ہوئی گویاخوارج پہلا فرقہ تھا۔ان کی عملی زندگی اور کردار بہت اچھااو رعمدہ تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

[2] السلسلۃ الصحیحۃ ۲؍۱۶۶

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت