''تحتقرون صلاتکم الی صلاتھم وصیا مکم الی صیامھم'' [1]
یعنی:وہ نمازیں ایسی پڑھیں گے کہ اے صحابہ تم اپنی نمازوں کو انکی نمازوں کے مقابلے میں او راپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر جانوگے ۔
محدثین کا اجماع ہے کہ جتنے فرقے ہیں ان میں خوارج ایسا فرقہ ہے جس میں جھوٹ بالکل نہیں ، بلکہ وہ تو مرتکب کبیرہ کو کافر قرار دیتے ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا:
'' لئن أناادرکتھم لا قتلنھم قتل عاد '' [2]
یعنی اگر میں نے خارجیوں کو پالیا تو میں انہیں قوم عاد و ثمود کی طرح قتل کرکے رکھ دونگا۔ یہ اسلام میں پہلا فرقہ ہے ،اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ فرقہ کا معاملہ کوئی معمولی نہیں ، جسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے ۔
دمشق میں جب صحابی رسول ابو امامہ الباہلی نے جنگ کے بعد خارجیوں کی لاشیں دیکھیں اور وہ بکھری پڑی تھیں ، تو ترس کھانے کے بجائے فرمایا:
'' شر قتلی تحت ادیم السماء ''
اس آسمان کے نیچے یہ سب سے بد ترین مخلوق ہیں ۔ اور فرمایا میں نے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ:
'' الخوارج کلاب النار '' [3]
[2] بخاری،الرقم:۳۳۴۴
[3] ترمذی،الرقم:۳۰۰۰