فهرس الكتاب

الصفحة 54 من 380

اتباع کے میدان میں اس اثبات اور انکار کا عقیدہ ضروری ہے

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے ایک سیدھا خط کھینچا اور فرمایا:

[ھذا صراطی مستقیما] [1]

یعنی:یہ اللہ کاسیدھا راستہ ہے۔ (یہ اثبات ہے) پھر اس سیدھے خط کے دائیں بائیں بہت سے خط کھینچے اور فرمایا ان تمام راستوں میں سے ہر راستے پر شیطان بیٹھا ہوا ہے اور دعوت دے رہا ہے ۔ (یہ نفی وانکار ہے۔)

دنیا میں دو ہی راستے ہیں سبیل اللہ اور سبیل الشیطان

سامعین کرام! یہاں کسی ابہام یاخفاء کے بغیر بڑی صراحت کے ساتھ یہ بات عیاں ہورہی ہے کہ اس دنیا میں راستے دو ہی ہیں (1) سبیل اللہ،یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے جس کی بنیاد وحی الٰہی ہے، اور جس کے ترجمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔فرمایا:

[فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِيْٓ اُوْحِيَ اِلَيْكَ۰ۚ اِنَّكَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ] [2] یعنی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے اس کومضبوطی سے تھامے رہیے، بلاشبہ سیدھے راستے پر آپ ہی ہیں۔

آگے فرمایا:

[وَاِنَّہٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ۰ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ] [3]

[2] الزخرف:۴۳

[3] الزخرف:۴۴

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت