فهرس الكتاب

الصفحة 325 من 380

حدیث قدسی اور اس کا دیگر احادیث اورقرآن سے فرق

جس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب تعالیٰ کی طرف منسوب فرمادیں،اسے حدیثِ قدسی کہاجاتاہے، توگویا حدیثِ قدسی ہر وہ حدیث ہے،جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب عزوجل سے روایت فرمائیں۔

قرآن وحدیث دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، [وَاَنْزَلَ اللہُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ ] [1]

ترجمہ:اور اللہ نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ۔

[وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰى۔ اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى] [2]

ترجمہ:اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں ،یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے ۔

(ألا إنی أوتیت القرآن ومثلہ معہ) [3]

یعنی:خبردار!مجھے قرآن اور اس کے مثل ایک اور چیز (حدیث) دی گئی ہے۔

مگر حدیث قدسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اس کی تشریف وتکریم کا مظہر ہے۔ اس بارہ میں علماء کی مختلف آراء ہیںکہ حدیثِ قدسی کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہیں،راجح قول یہی ہے کہ حدیثِ قدسی کا معنی ،اللہ تعالیٰ کی طرف سے ،اورالفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہیں۔

[2] النجم:۳،۴

[3] ابوداؤد:۴۶۰۴

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت