سے آگاہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی انہی دوقواعد کی تحقیق وتعلیم میں بسرہوئی،یہی دوچیزیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت وتعلیم کا لبِ لباب تھیں،اور یہی دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد وقتال کا مرکز ومحور تھیں۔
جو دعوت ان دومقاصد سے خالی ہوگی وہ شراور فتنہ کے سوا کچھ نہ ہوگی اور جوجہاد ان دونوں مقاصد سے خالی ہوگا وہ فساد کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
حضرات!پہلاقاعدہ (لاالٰہ الااللہ) یعنی توحیدِ عبادت ہے،جس کا آپ روزانہ اللہ تعالیٰ کے حضور متعدد بار اقرار واعتراف کرتے ہیں،یعنی: [اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ] پڑھتے ہیں،جس کا معنی یہ ہے کہ اے اللہ!ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں،تیرے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرتے،اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں، تیرے علاوہ کسی سے مدد نہیں چاہتے۔
اس ارفع واعلیٰ قاعدہ کے بیان اور وضاحت کیلئے نبوتیں اور رسالتیں تشکیل دی گئیں، باربار اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی اتاری گئی،کتب وصحائف نازل کیے گئے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْہِ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ] [1]
ترجمہ:تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ