خطرناک عمل ہے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار. [1]
جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے گا اور کہے کہ یہ قولِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے،حالانکہ وہ بات میں نے نہیں کہی تو وہ دنیا میں طے کرلے کہ روزقیامت میرا ٹھکانہ جہنم کے سوا کچھ نہیں۔ وہ آج طے کرکے جائے میں قیامت کے دن جہنم میں جاؤنگا۔
ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
من یقل علی ما لم أقل فلیتبوا مقعدہ من النار. [2]
جس شخص نے میری طرف وہ بات منسوب کی جو میں نے کہی ہی نہیں، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میںبنالے۔
تو یہ بھی ایک خطرناک روش ہے۔ دعوت میں بصیرت ہونی چاہئے۔ دیکھیں جو اللہ کے دین کا داعی ہےوہ انبیاء کا جانشین ہے۔ اللہ اس سے وہ کام لے رہا ہے جو کام انبیاء سے لیتا ہےلہذا اس عمل کو ہم کوشش کریں کہ انبیاء کے منہج اور ان کی سنت کے مطابق بنائیں تاکہ اس کا فائدہ ہو ورنہ میرے بھائیو یہ لاکھوں کے فنڈز جمع کرنا،خرچ کرنا، کھاناکھلانا، رونقیں لگالینا یہ کافی نہیں ہے۔ جب تک یہ سارے امور اور یہ سارے کام اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ان کے منہج کے مطابق نہ ہوں ۔ اللہ ہم سب کو توفیق عطافرمادے۔
میرے دوستو اوربھائیو! جولوگ اس سماع اور اجتماع ایسے عظیم عمل کو منہج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے
[2] بخاری:۱۰۹