سبق پڑھا گئی کہ عمر جیسا فاتح اعظم اور علوم نبوت کا حامل ووارث بھی دین کے معاملے میں پیروی کے لائق نہیں بلکہ قیا مت کی آخری دیواروں تک یہ حق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص و مرقوم ہے اور جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے تقوی کی بھی داد دیجئے جنہوں نے بھری محفل میں اپنی غلطی تسلیم کر لی اور وحی الہی کو نافذ فرمادیا: [ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ]
تقلید کے تعلق سے آج کی مجلس میں جس دوسری غلط روش کا تذکرہ مقصود ہے وہ انتہائی خطرناک اور ظالمانہ روش ہے جو یہ ہے کہ بعض مسائل میں اہل تقلید کو اپنے آئمہ و اصحاب کے قول کا غلط اور خلاف حق ہونا معلوم ہو جاتاہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے ائمہ یا علماء کے قول ہی کو ترجیح دیتے ہیں گویا جانتے بوجھتے حق کا انکار، عمدًا وقصدًاناحق کا تسلیم و تنفیذ۔
[وَاِنَّہٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَہِيْدٌ] [1]
بلکہ ہم نے تو بعض ایسی مثالیں بھی دیکھی ہیں کہ نہ صرف یہ کہ حق کو پہچان لیا جاتا ہے بلکہ اقرار واعتراف بھی کرلیا جاتا ہے کہ ہمارے امام کا قول خلاف حق ہے ، لیکن اس کے باوجود محض اتباع مذہب کی حجت کی بنا پر اس کو قبول کرنا ہے اور مخالف کا قول حق ہونے کے باوجود چھوڑدینا ہے ۔
تقلید کی بنا پر انکار حق کی چندمثالیں
تقریر ترمذی کے مؤلف نے مسئلہ خیار مجلس کے ضمن میں امام شافعی رحمہ اللہ اور امام ابو