حنیفہ رحمہ اللہ کے مابین اختلاف نقل کیا ہے اور امام شافعی کے مسلک کو کئی احادیث سے درست ثابت کیا ہے ، آخر میں اپنا فیصلہ یوں صادر فرماتے ہیں:
[الحق والانصاف ان الترجیح للشافعی ولکن نحن مقلدون یجب علینا تقلید امامنا] [1]
اگر حق وانصاف کی بات پوچھو تو اس مسئلہ میں ترجیح امام شافعی کو حاصل ہے ( یعنی ان کا قول صحیح اور مطابق حدیث ہے ) لیکن ہم پر تو اپنے امام کی تقلید واجب ہے ۔ ( لہذا گو ہمارے امام کا قول خلاف حق ہے لیکن ہم تو اسے نہیں چھوڑیں گے ) انا للہ واناالیہ راجعون.
جانتے بوجھتے حق کا انکار اور باطل کا تسلیم واقرار بربادیٔ دین ودنیا کے سوا کچھ نہیں ، یہ ایک ایسا مہلک ہے جس سے نجات کی راہیں قطعی مسدود دکھائی دیتی ہیں ۔
کنز الد قائق کے شارح نے ایک مقام پر ایک مسئلہ اٹھایا ہے جس کی اصل کچھ یوں ہے کہ وہ کافر جو ہمارے علاقے میں ہماری پناہ اور ذمہ میں رہتا ہے جسے اصطلاحًاذمی کہا جاتاہے اور جس کی حفاظت ہم پر فرض ہے اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے دے تو کیا اب بھی اس کاذمہ باقی ہے !
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ذمہ بر قرار ہے اور گالی دینے کے باوجود نہیں ٹوٹا جبکہ جمہور علماء کے نزدیک اس کا ذمہ ٹوٹ جائے گا شارح اپنا فیصلہ یوں تحریر کرتے ہیں ۔
[وقلب المؤمن یمیل الی رأي المخالف ولکن اتباع المذھب واجب]
ایک مؤمن کا دل تو اس مسئلہ میں مخالف کی رائے پر ہی ٹکتا اور مطمئن ہوتا ہے لیکن