فهرس الكتاب

الصفحة 157 من 380

'' عامل بالاثر و طریقۃ السلف و ایاک و کل محدثۃ فانھا بدعۃ ''

تم حدیث اور طریقہ سلف کو لازم پکڑ لو اور نئے عمل سے اجتناب کرو کیونکہ وہ بدعت ہے ۔

سامعین حضرات! ان تمام ادلہ نصوص اور اقوال سلف سے ثابت ہوا کہ بدعت گمراہی اور مہلک ہے ۔قرآن و حدیث میں اس کی شدید ترین مذمت وارد ہے ۔ عملِ بدعت ، بدعتی پر مردود ہے اور عنداللہ غیر مقبول ہے ۔

قرونِ خیر اور مذمتِ بدعت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک شخص نے زمانہ بھر کے روزے رکھنے کا عمل شروع کردیا۔تو آپ نے فرمایا: '' من صام الأبد فلا صام '' جس شخص نے ہمیشہ کے روزے شروع کر دیئے ہیں اس نے کوئی روزہ نہیں رکھا ۔ [1]

ایک شخص نے سفر حج کے تعلق سے زیادہ ثواب کمانے کی غرض سے پیدل چلنے، دھوپ میں بیٹھنے ، بھوکا اور پیاسا رہنے کا عزم کر لیا تو آپ نے فرمایا:'' ان اللہ لغنی عن تعذیبہ نفسہ '' اس نے اپنے آپ کو جس عذاب میں ڈال رکھا ہے اس سے اللہ ناراض ہے ۔ [2]

تین افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنااپنا عزم کر لیا ۔ ایک نے زمانے بھرکے روزے رکھنے کا ' دوسرے نے رات بھر عبادت کیلئے جاگتے رہنے کا ' اور تیسرے نے کبھی شادی نہ کرنے کا تاکہ پوری یکسوئی سے عبادت کرسکوں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے طریقہ مبارکہ سے آگاہ فرمادیا اور پھر فرمایا اگر تم نے

[2] مسند احمد،الرقم:۱۳۸۶۶

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت