فهرس الكتاب

الصفحة 156 من 380

ابو قلاب تو یہاں تک فرمایا کرتے تھے:

''ماابتدع رجل بدعۃ الا استحل السیف '' [1]

جو آدمی کسی بدعت کو جاری کرے وہ اپنے لئے تلوار حلال کرلیتا ہے ۔

سلیمان التمیمی ایک بدعتی کو سلام کر بیٹھے ۔ موت سے قبل اس گناہ کو یاد کرکے حساب کے ڈر سے روتے رہے ۔

امام اوزاعی نے صحابی سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے:

جو قوم کسی بدعت کو اپنا لیتی ہے اللہ تعالیٰ ان سے سنت کو اٹھالیتا ہے پھر وہ انہیں قیامت تک نصیب نہیں ہوتی ۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کاقول ہے:

'' اتبعواوالا تبتدعوا فقد کفیتم ' [2] اتباع کے راستہ پر چلو۔ بدعت کی راہ مت اختیار کرو ۔ قرآن و حدیث تمھارے لئے کافی ہیں ۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایاکرتے تھے:

''کل بدعۃ ضلالۃ وان راھا الناس حسنۃ'' [3]

ہربدعت گمراہی ہے خواہ لوگ اسے کتنا ہی اچھا سمجھیں۔

امام ابو حنیفہ کا قول ہے:

[2] دارمی،الرقم:۲۱۱

[3] الآثار الصحیحۃ ۱؍۴۲

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت