جن لوگوں کے عقیدۂ توحید ربوبیت میں دراڑہے وہ تو اس چیونٹی سے بھی گئے گذرے ہیں،مشرکین مکہ سے اگر ان کا تقابل کیاجائے تو یہ کس صف میں کھڑے دکھائیں دیں گے؟
توحید ربوبیت کی معرفت کے بہت سے ثمرات ونتائج ہیں:
(1) اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء حسنی اورصفات ِعلیا سے تعلق جڑ جاتا ہے،درج ذیل اسماء وصفات کا تعلق توحیدربوبیت ہی سے ہے،چنانچہ توحیدربوبیت کی صحیح معرفت کیلئے درج ذیل اسماء وصفات کی معرفت ایک لازمی امر ہے۔ (الرحمن، الرحیم، الرزاق، الخالق، الخلاق،الملک، الملیک، القوی، المتین، المحیط، المقیط، الحفیظ، الغنی، الکریم، الحمید، المجید، القادر، القدیر، المقتدر، الحسیب، الکافی، الشافی، الغالب، النصیر، العزیز، الجبار، القاھر، القھار، الوارث، المحسن، الدیان، المقدم، المؤخر، المعطی، المانع، النافع، الضار، الجواد، النافع) وغیرہ وغیرہ۔
(2) اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی محبت دل میں اجاگرہوگی اوربندہ ان صفات کو اپنے اندر پیداکرنے کی کوشش کرے گا جو عظیم صلہ اوراجروثواب کا باعث ہوگا۔مثلًا صفت الرحمن کی محبت کی وجہ سے بندہ کے اندر رحمت کے جذبات پیداہونگے جس کا اجر حدیث میں وارد ہے:
(إرحموا من فی الأرض یرحمکم من فی السمائ) [1]