اہل بدعت سے اختلاط کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ وہ اہل حق جو آپ کی جماعت کا حصہ ہیں وہ آپ کے اس اختلاط ومصاحبت سے دھوکے کا شکار ہوجائیں گے ، ان کے دلوں میں اہل بدعت کے تعلق سے نرم گوشہ پیدا ہوگا اور اہل بدعت سے نفرت کی غیرت ختم ہوجائے گی۔وہ یہی سوچیں گے کہ جب ہمارے اکابرین ان لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں ، باہمی تعاون کرتے ہیں، ساتھ مل کر کھاتے پیتے ہیں ،ایک ہی اسٹیج پر پروگرام کرتے ہیں ، مشترکہ بیانات دیتے ہیں اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں،تو یہ بھی ٹھیک ہی ہونگے ،یوں زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بدعقیدگی سے مکمل اتفاق نہیں تو کم از کم سمجھوتہ کی شکل ضرور ہوجائے گی۔اگر موجودہ نسل نہیں تو اگلی نسل ضرور اس دام میں گرفتار ہوجائے گی۔ والعیاذ باللہ
حضرات ِگرامی! آج اگر امرِ واقع کا جائزہ لیں تو یہ افسوس ناک حقیقت پوری طرح موجود ہے،وہ تمیز جو اہل الحدیث کی شان ہے مفقود ہوتا جارہا ہے ،چنانچہ کوئی سیاسی مفادات کی خاطر،اہل باطل کی باہوں میں باہیں ڈال کر خوش ہورہا ہے اور کوئی اپنے گروہ کی تعداد میں اضافہ اور مال ودولت کے حصول کی خاطر اہل بدعت کی تکریم وتعظیم میں مشغول ہے ،جماعتوں اور جمعوں کی امامت تک ان کے سپرد ہے ۔اہل بدعت کے خلاف پائی جانے والی دینی حمیت وغیرت جو کبھی اہل حق کا تمیز ہوتا تھا،آج ناپید ہوتی جارہی ہے۔حتی کہ اپنے رسائل اور مجلات میں بھی اہل بدعت کے مضامین شامل کیئے جاتے ہیں، ان مضامین کے مندرجات درست بھی ہوسکتے ہیں لیکن اس سے پڑھنے والے سادہ قارئین