حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل جنابت کے موقع پر اپنے سر کے بالوں کی تمام مینڈھیاں کھولاکریں تو آپ نے فرمایا:
عبداللہ بن عمر پر تعجب ہے !!۔۔۔۔۔۔ اس کا بس چلے تو عورتوں کو گنجا ہی کردے۔ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے تھے اور اس سے زیا دہ میں نے کچھ نہیں کیا کہ اپنے سر پر تین دفعہ اچھی طرح پانی کے چلو ڈال لیتی تھی ۔ [1]
(۳) ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی:
[لا تمنعو انسائکم المساجد اذا استاذنکم الیھا...] [2]
یعنی جب تمھاری عورتیں تم سے مسجد میں آنے کی اجازت طلب کریں تو انہیں مت روکا کرو تو ان کے بیٹے بلال نے کہا: ہم تو روکیں گے تو اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے اس قدر لعن طعن کی کہ اس طرح کی لعن طعن کرتے ہوئے انہیں کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ اور آپ بار بار فرماتے:
[ أخبرک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتقول واللہ لنمنعھن ] [3]
میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں اور تم کہتے ہو ہم روکیں گے !!
( ۴) عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو خذف کرتے ہوئے دیکھا (ایک مخصوص طریقے سے ہاتھ سے پتھر پھینکناخذف کہلاتاہے ) تو فرمایا:
'' ایسا مت کرو ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خذف سے روکا ہے اور فرمایا ہے: خذف
[2] مسلم،رقم الحدیث:۱۰۱۷
[3] مسلم،رقم الحدیث:۱۰۱۷