فهرس الكتاب

الصفحة 147 من 380

سفیان بن سعید الثوری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:

[ماعالجت شیئا أشد علی من نیتی لأنھا تنقلب علی] [1]

تمام اعمال میں مجھے سب سے زیادہ مشکل،اپنی نیت کی حفاظت میں پیش آتی ہے کیونکہ یہ بدلتی رہتی ہے۔

سہل بن عبداللہ کا قول ہے:نفس پر سب سے مشکل اورگراں چیزاخلاص ہے،کیونکہ اس میں نفس کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔

عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:

'' رب عمل صغیر تعظمہ النیۃ '' [2]

بہت سے چھوٹے اعمال کو نیت، عظیم الشان بنادیتی ہے اور بہت سے بڑے اعمال کو نیت، حقیر و صغیر بنادیتی ہے ۔

قاضی فضیل بن عیاض ، قولہ تعالیٰ: [ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۰] [3]

میں احسن عمل کی تفسیر فرماتے ہیں کہ وہ اخلص ( بالکل خالص ) اور أصوب ( بالکل درست ) ہوتاہے۔ پھر فرماتے ہیں: عمل اگر خالص ہو لیکن درست نہ ہو تو بھی عنداللہ مقبول نہیں ہوتا ۔ خالص کا معنی یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کیلئے ہو او ردرست کا معنی یہ ہے کہ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو ۔

نافع بن حبیب سے کسی نے کہا: ایک مسلمان بھائی کا جنازہ آیا ہےکیوں نہ پڑھ لیا

[2] جامع العلوم والحکم ۲؍۲۶۸۰،سیر اعلام النبلاء ۸؍۴۰۰

[3] الملک:۲

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت