فهرس الكتاب

الصفحة 194 من 380

سمندر میں سے پانی بھرا ، ( جن کا تعلق اللہ کے ساتھ ہوتا ہے وہ دنیا کی ہر چیز کو دین کے ساتھ ، آخرت کے ساتھ مربوط کرتے ہیں اور جوڑتے ہیں یہ منظر اللہ کے دو نبیوں نے دیکھا) تو خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا:تم نے یہ پرندہ دیکھا اس نے اپنی چونچ میں پانی بھرا ؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں ، تو خضر علیہ السلام نے فرمایا: کہ میرا علم ، تمہارا علم اور پوری مخلوقات کا علم (ان مخلوقات میں فرشتے اور جن ہیں اور انسان بھی ہیں جو بڑے مدبر،مفکر اور فلسفی اور منطقی ہیں اور ان میں محدثین ، خطباء اور شعراء بھی ہیں) اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں اتنا ہے جتنا پرندے کی چونچ کا پانی اس سمندر کے مقابلے ہیں]

یہ تشبیہ صرف سمجھانے کے لئے ہے ، ورنہ اللہ رب العزت کا علم ، اور اس کی صفات مثالوں میں مقید نہیں ہو سکتیں ۔

دوسرا مقدمہ:

یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کو اپنے دین کا مکلف اور پابند بنایا ہے ، ہماری حاجات کیا ہیں اور دین کے تعلق سے ہماری ذمہ داری کیاہے ، اس کا علم زیادہ کس کو ہے ؟ ہمیں یا اللہ تعالیٰ کو ؟ قرآن مجید میں ہے:

[اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ۰ۭ وَہُوَاللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ] [1]

یعنی: ( اللہ رب العزت اپنی مخلوق کو خوب جانتا ہے) کیونکہ وہی خالق ہے ، لہٰذا وہی زیادہ جانتا ہے کہ مخلوقات کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا بدتر ، وہ خوب جانتا ہے کہ بندوں کے امراض کیا ہیں اور ان کا علاج کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت