گیا۔ کبھی شاعراور کبھی ساحرو کاھن۔
آپ کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا گیا ۔ آپ کلام مقدس کی آیات تلاوت فرماتے تو کبھی [اَسَاطِيْرُالْاَوَّلِيْنَ] (پچھلے لوگوں کے قصے کہانیاں) کہاگیا کبھی [اِنَّمَا يُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ] (انہیں کوئی دوسرا شخص تعلیم دیتاہے) کہا گیا کبھی [اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اِفْكُۨ افْتَرٰىہُ ] (یہ سب جھوٹ ہے جو اس نے خود گھڑاہے)
کبھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کہا گیا:
[ مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ۰ۭ ] [1]
مسلمانو ں پر تحقیرواستہزاء کا ایک بازار گرم تھا 'وہ لوگ ٹھٹھ کرتے ' پاس سے گذر تے ہوئے اشارے کرتے مذاق اڑاتے ۔۔۔
[اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ ۔ وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ يَتَغَامَزُوْنَ ۔ وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَہْلِہِمُ انْقَلَبُوْا فَكِہِيْنَ ۔ وَاِذَا رَاَوْہُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ لَضَاۗلُّوْنَ] [2]
یعنی گنہگار لوگ ایمانداروں پر ہنستے تھے اور جب ایمان والوں کے ساتھ گزرتے تو آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے ' اپنے گھر والوں کی طرف باتیں بناتے ہوئے لوٹتے اور جب ان ایمان والوں کو دیکھتے تو کہتے یہ گمراہ ہیں ۔
ایذا رسانی کا یہ سلسلہ پھر جسمانی تشدد تک پہنچ گیا ۔ ۳۵سردار ان قریش کی با قاعدہ کمیٹی بنادی گئی جس کی ڈیوٹی یہ تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں پر جبرو تشدد
[2] المطففین:۲۹-۳۲