فهرس الكتاب

الصفحة 313 من 380

ترجمہ: اس دن کوئی نفس کسی نفس کیلئے کسی بھی چیز کا مالک نہیں ہوگا،اور حکم اس دن اللہ تعالیٰ کیلئے ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کی مشیئت اگر متقاضی ہوتو وہ دنیا میں بھی اپنے نیک بندوں یا قوموں کو اچھی جزا اور برے بندوں یاقوموں کو عذاب دے دیتا ہے،بہرحال دنیا ہویا آخرت، دونوں جہانوں میں جزاوسزا کااختیار صرف اللہ رب العزت کے پاس ہے، دنیا وآخرت کے مابین عالم برزخ میں بھی اللہ تعالیٰ کے امر سے جزایاسزا کے احکام مرتب ہوتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ کی صفتِ مالکیت میں،دوسرا کوئی بھی ایک ذرہ کے برابر بھی شریک نہیں ہے،فرمایا:

[وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ] [1]

یعنی: جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہووہ تو کھجور کی گٹھلی کے اندر دھاگے کے بھی مالک نہیں ہیں۔

ایک اور مقام پر فرمایا:

[قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ] [2]

یعنی:کہہ دو،پکاروان لوگوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا (شریک ) سمجھتے ہو،وہ تو آسمانوں اورزمینوں کے اندر ایک ذرہ تک کے مالک نہیں،اور نہ ہی اس ذرہ کی ملکیت میں وہ اللہ تعالیٰ کے حصہ دارہیں اور نہ ہی اس ذرہ کے سلسلہ میں وہ اللہ تعالیٰ کے مددگارہیں۔

[2] سبا:۲۲

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت