فهرس الكتاب

الصفحة 353 من 380

غَيْرُ اللہِ] [1]

کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے؟ (ہرگز نہیں)

دین کا تھوڑا سادَرک رکھنے والاانسان بھی بخوبی یہ بات جانتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی کسی مخلوق کاخلق عبث نہیںہے،بلکہ حکمتوں سے بھرپورہے،خواہ ہمیں ان حکمتوں کی آگاہی ہو یا نہ۔

یہ بات معلوم ہے کہ تمام مخلوقات میں،اللہ تعالیٰ کی سب سے اشرف واعلیٰ خلق، حضرتِ انسان ہے۔ [لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ] [2]

یقینًا ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ۔

توپھر اس اشرف المخلوقات یعنی انسان کی خلق عبث کیسے ہوسکتی ہے؟

[اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ] [3]

کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے ۔

اس آیتِ کریمہ سے دوباتیں معلوم ہوئیں:

ایک یہ کہ انسان کاخلق عبث نہیں ہے،بلکہ ایک انتہائی پاکیزہ اور مقدس حکمت کے تحت ہے،جس کی معرفت ازحد ضروری ہے،پھر اس معرفت کے بعد عملی جامہ پہنانا اس سے بھی ضروری ہے۔

دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ تمام انسان اپنی موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں

[2] التین:۴

[3] المؤمنون:۱۱۵

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت