فهرس الكتاب

الصفحة 92 من 380

[اذا رأیت صاحب حدیث فکانی رأیت أحدامن أ صحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ] [1]

یعنی میں جب کسی اہل حدیث کو دیکھتا ہو ں تو محسوس ہوتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو دیکھ رہا ہوں ۔

ایک بہت بڑے محدث ابو بکر بن عیاش کا قول ہے ۔

[أھل الحدیث فی کل زمان کأھل الإسلام مع أھل الادیان ] [2]

یعنی اہل حدیث کا ہر دور میں دیگر لوگوں سے وہی فرق ہے جو ہر دور میں اہل الاسلام کا دیگر ادیان والوں سے فرق ہے۔

اما م احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا:

کسی شہر میں اہل حدیث ہو جسے صحیح و ضعیف کی زیادہ معرفت بھی مستخصر نہ ہو اور ایک صاحب الرائے ہو تو مسئلہ کس پوچھا جائے ؟

فرمایا:

[یسأل صاحب الحدیث ولا یسأل صاحب الرأی ] [3]

اہل حدیث سے پوچھا جائے ۔ اہل الرائے سے نہ پوچھا جائے ۔مزید فرمایا:

[لا تری أحد ینظر فی کتب الرأی غالبًا الا فی قلبہ دخل] [4]

جو شخص (حدیث کے بجائے ) رائے پر مبنی کتب پڑھتا ہے اس کا دل مکرو فسادسے لبریز ہے۔

[2] فضل شرف علم الحدیث۱؍۱۴ المستخرج علی المستدرک۱؍۱۴

[3] المستخرج علی المستدرک۱؍۱۶

[4] المستخرج علی المستدرک۱؍۱۶

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت