رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جب بھی نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر پُھسیاں ( گوز ) مارتے ہوئے بھاگ جاتا ہے۔'' [1]
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: ''جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے، اور اس کی ہوا خارج ہورہی ہوتی ہے۔ '' [2]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جب سرکش شیطان رنگ بدل بدل کر ظاہر ہورہے ہوں توان کوبھگانے کے لیے اذان دیا کرو۔'' [3]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ''غیلان''یعنی جادو گرجنات کا ذکر کیا گیا ۔تو آپ نے فرمایا:
''ان میں سے کوئی ایک بھی اپنی اس شکل و صورت کوتبدیل نہیں کرسکتا جس پر اللہ تعالیٰ نے اس کوپیدا کیا ہے، لیکن وہ بنی آدم کے جادو گروں کی طرح کے جادو گر ہیں ۔ جب تم ان میں سے کسی ایک کو دیکھو تو اذان دینے لگ جاؤ۔'' [4]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[2] مسلم (۸۵۷) ۔
[3] قال الحافظ ابن حجر رحمہ اللہ: أخرجہ النسائی و رجالہ ثقات۔دیکھو: الفتوحات الربانیۃ (۵؍۱۶۱) ۔
[4] أخرجہ ابن أبي شیبۃ فی المصنف (۶؍۹۵) ۔ وصحح إسنادہ الحافظ ابن حجر فی الفتح (۶؍۳۹۶) ۔