جنات بھائیوں کی غذا ہے ۔'' [1]
٭ ایک دوسری روایت میں ہے:''کوئی انسان ہڈی سے استنجاء نہ کرے اور نہ ہی گوبر یا پکی ہوئی مٹی سے استنجاء کرے ۔'' [2]
٭ اور ایسے ہی آپ نے منع فرمایا کہ:'' کوئی بھی مینگنی یا ہڈی سے استنجا نہ کرے '' [3]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' تم میں سے کوئی ایک بھی کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرے۔ '' [4]
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: سوراخ میں پیشاب کرنے سے کیوں منع کیا گیا ہے تو آپ نے فرمایا:''اس لیے کہ وہ جنات کی رہائش گاہیں ہیں۔'' [5]
گھر کے سانپ کو نوٹس دینے سے قبل نہ مارا جائے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِن بِالمدِینۃِ نفرا مِن الجِنِ قد أسلموا فمن رأی شیئا مِن ہذِہِ العوامِرِ فلیؤذِنہ ثلاثا فإن بداء لہ بعد؛ فلیقتلہ؛ فِإنہ شیطان ) ) [6]
[2] صحیح أبي داؤد (۲۹) ۔
[3] صحیح الجامع (۵۸۲) ۔
[4] بخاری (۳۳۷۱) ۔
[5] سوراخ موذی چیزوں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں ۔جن سے ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
[6] مسند أحمد (۵؍۸۲) ۔صحیح۔