فهرس الكتاب

الصفحة 122 من 302

کی اجازت نہیں]۔

د:پہلی روایت کے متعلق علامہ عبید اللہ مبارک پوری لکھتے ہیں:

'' وَالْحَدِیْثُ ظَاہِرٌ فِيْ وَجُوْبِ الْجَمَاعَۃِ وَجُوْبَ عَیْنٍ،فَیَأْثَمُ الْمُصَلِّيْ بِتَرْکِہَا ''۔ [1]

''جماعت کے واجب عینی ہونے کے متعلق حدیث (کی دلالت) واضح ہے۔اسے چھوڑنے والا نمازی گناہ گار ہے۔''

ہ:چوتھی روایت پر امام ابن خزیمہ نے حسبِ ذیل عنوان قلم بند کیا ہے:

[بَابُ أَمْرِ الْعُمْیَانِ بِشُہُوْدِ صَلَاۃِ الْجَمَاعَۃِ،وَإِنْ خَافَ الْأَعْمٰی ہَوَامَّ اللَّیْلِ وَالسِّبَاعِ إِذَا شَہِدَ الْجَمَاعَۃَ ] [2]

[بصارت سے محروم لوگوں کو نماز باجماعت میں حاضری کا حکم،اگرچہ جماعت میں حاضری کی صورت میں اندھے شخص کو رات کے کیڑے مکوڑوں اور درندوں کا ڈر ہو]

و:امام ابن منذر نے تیسری روایت کے ہم معنٰی حدیث حسبِ ذیل عنوان کے ضمن میں نقل کی ہے:

[ذِکْرُ إِیْجَابِ حَضُوْرِ الْجَمَاعَۃِ عَلَی الْعُمْیَانِ،وَإِنْ بَعُدَتْ مَنَازِلُہُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ،وَیَدُلُّ ذٰلِکَ أَنَّ شُہُوْدَ الْجَمَاعَۃِ فَرْضٌ لَا نَدْبٌ ] ۔ [3]

[بینائی سے محروم لوگوں پر،ان کے گھروں کی مسجد سے دُوری کے باوجود،جماعت میں حاضری کے وجوب کا ذکر اور یہ (اس بات کی) دلیل ہے،

[2] صحیح ابن خزیمۃ ۲/ ۲۶۷۔

[3] الأوسط فی السنن والإجماع والاختلاف ۴/ ۱۳۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت