فهرس الكتاب

الصفحة 62 من 302

''میں (صف میں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب ہونے کو پسند کرتا ہوں۔''

امام نسائی نے اس پر حسبِ ذیل عنوان لکھا ہے:

[اَلْمَکَانُ الَّذِيْ یُسْتَحَبُّ مِنَ الصَّفِّ] [1]

[صف میں پسندیدہ جگہ]

۴:علامہ عظیم آبادی حضرت براء رضی اللہ عنہ کے حضراتِ صحابہ کے صف کے دائیں جانب کھڑے ہونے کے قول کے متعلق رقم طراز ہیں:

'' کیونکہ صف کی دائیں جانب افضل ہے۔علاوہ ازیں سلام پھیرتے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کو بائیں جانب والوں کی طرف پھیرنے سے پہلے ہماری طرف پھیرتے۔'' [2]

نمازِ با جماعت سے اللہ تعالیٰ کا خوش ہونا

امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا:'' میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

''إِنَّ اللّٰہَ لَیَعْجَبُ مِنَ الصَّلَاۃِ فِيْ الْجَمِیْعِ۔'' [3]

''بے شک اللہ تعالیٰ با جماعت نماز سے خوش ہوتے ہیں۔''

[2] عون المعبود ۲؍۲۲۷۔

[3] المسند ، رقم الحدیث ۵۱۱۲، ۷؍۱۲۰۔ شیخ احمد شاکر نے اس کی [سند کو حسن] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۷؍۱۲۰) ۔ حافظ ہیثمی لکھتے ہیں: اسے طبرانی نے [المعجم ] الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کی [سند حسن] ہے۔ (ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد ۲؍۳۹) ۔ نیز ملاحظہ ہو: سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، رقم الحدیث ۱۶۵۲، ۴؍۲۱۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت