اجر و ثواب لکھا جاتا ہے۔علامہ عبید اللہ مبارکپوری حدیث کی شرح میں رقم طراز ہیں:
''وَفِیْہِ أَنَّہُ یُکْتَبُ لِقَاصِدِ الصَّلَاۃِ أَجْرُ الْمُصَلِّيْ مِنْ حِیْنَ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ إِلٰی أَنْ یَّعُوْدَ إِلَیْہِ۔'' [1]
''اس (حدیث) میں ہے،کہ ارادۂ نماز سے روانہ ہونے والے کے لیے گھر سے نکلنے سے لے کر،اس کے (گھر) واپس آنے تک،نماز ادا کرنے والے کا ثواب تحریر کیا جاتا ہے۔''
امام احمد نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے فرمایا:
''اَلْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ إِلٰی ہٰذِہِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الْجِہَادِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔'' [2]
''ان مساجد کی طرف دن کے پہلے اور پچھلے پہر جانا [جہاد فی سبیل اللہ] سے ہے۔''
اس روایت کے حوالے سے دو باتیں:
۱: [جہاد فی سبیلِ اللہ] سے ہونے سے مراد یہ ہے،کہ اللہ تعالیٰ مسجد کی طرف آنے جانے پر [جہاد فی سبیلِ اللہ] کا ثواب دیتے ہیں۔
اس بات کی تائید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین اعمال: [نہ چاہنے کے باوجود کامل وضو بنانا،مساجد کی طرف بہت قدم (چل کر جانا) اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا] کے متعلق فرمایا:
''فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ۔''
'' یہ تمہارا [رباط] ہے۔''
[2] المسند، جزء من رقم الروایۃ ۲۰۲۳۰۴، ۳۶؍۶۴۰۔ شیخ ارناؤوط نے اس کی [ سند کو حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۳۶؍۶۴۰) ۔