فهرس الكتاب

الصفحة 39 من 302

اجر و ثواب لکھا جاتا ہے۔علامہ عبید اللہ مبارکپوری حدیث کی شرح میں رقم طراز ہیں:

''وَفِیْہِ أَنَّہُ یُکْتَبُ لِقَاصِدِ الصَّلَاۃِ أَجْرُ الْمُصَلِّيْ مِنْ حِیْنَ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ إِلٰی أَنْ یَّعُوْدَ إِلَیْہِ۔'' [1]

''اس (حدیث) میں ہے،کہ ارادۂ نماز سے روانہ ہونے والے کے لیے گھر سے نکلنے سے لے کر،اس کے (گھر) واپس آنے تک،نماز ادا کرنے والے کا ثواب تحریر کیا جاتا ہے۔''

ی:مسجد کی طرف آنے جانے کا[جہاد فی سبیل اللہ]سے ہونا:

امام احمد نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے فرمایا:

''اَلْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ إِلٰی ہٰذِہِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الْجِہَادِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔'' [2]

''ان مساجد کی طرف دن کے پہلے اور پچھلے پہر جانا [جہاد فی سبیل اللہ] سے ہے۔''

اس روایت کے حوالے سے دو باتیں:

۱: [جہاد فی سبیلِ اللہ] سے ہونے سے مراد یہ ہے،کہ اللہ تعالیٰ مسجد کی طرف آنے جانے پر [جہاد فی سبیلِ اللہ] کا ثواب دیتے ہیں۔

اس بات کی تائید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین اعمال: [نہ چاہنے کے باوجود کامل وضو بنانا،مساجد کی طرف بہت قدم (چل کر جانا) اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا] کے متعلق فرمایا:

''فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ۔''

'' یہ تمہارا [رباط] ہے۔''

[2] المسند، جزء من رقم الروایۃ ۲۰۲۳۰۴، ۳۶؍۶۴۰۔ شیخ ارناؤوط نے اس کی [ سند کو حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۳۶؍۶۴۰) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت