فهرس الكتاب

الصفحة 226 من 302

ج:علامہ احمد بن محمد در دیر [1] کا قول:

'' (اَلْجَمَاعَۃُ) :أيْ فِعْلُ الصَّلَاۃِ فِيْ جَمَاعَۃٍ بِإِمَامٍ (بِفَرْضٍ) وَلَوْ فَائِتًا أَوْ کَفَائِیًا کَالْجَنَازَۃِ (غَیْرِ الْجُمْعَۃِ) سُنَّۃٌ مُؤَکَّدَۃٌ''۔ [2]

'' (جماعۃ) یعنی فرض نماز کا امام کے ساتھ باجماعت ادا کرنا،وہ فوت شدہ ہو یا فرض کفایہ،جیسے نمازِ جنازہ ہے،ما سوائے نمازِ جمعہ کے [سنّت مؤکَّدہ] ہے۔''

د:شیخ صالح الآبی ازہری کا قول:

'' اَلْجَمَاعَۃُ بِفَرْضٍ غَیْرِ جُمْعَۃٍ سُنَّۃٌ مُؤَکَّدَۃٌ ''۔ [3]

''نماز جمعہ کے علاوہ (دیگر) فرض نمازوں کا باجماعت ادا کرنا [سنّت مؤکَّدہ] ہے۔''

مالکی علماء کے اقوال سے معلوم ہونے والی دو باتیں

ا:بعض مالکی علماء نے باجماعت نماز کو [سنّت] قرار دیا ہے۔

ب:بعض نے اسے [سنّت مؤکدہ] کہا ہے،جیسے کہ ابن جزی،دردیر اور آبی

کے مذکورہ بالا اقوال سے واضح ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے بھی اس بات کا ذکر کیا

[2] الشرح الصغیر علی أقرب المسالک إلی مذہب الإمام مالک ۱/ ۵۷۸۔

[3] جواہر الإکلیل شرح مختصر خلیل ۱/ ۷۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت