ہے۔وہ لکھتے ہیں:
'' فَقِیْلَ ہِيَ ''صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ'' سُنَّۃٌ مُؤَکَّدَۃٌ فَقَطْ،وَہٰذَا ہُوَ الْمَعْرُوْفُ عَنْ أَصْحَابِ أَبِيْ حَنِیْفَۃَ،وَأَکْثَرِ أَصْحَابِ مَالِکٍ،وَکَثِیْرٍ مِنْ أَصْحَابِ الشَّافِعِيِّ،وَیُذْکَرُ رِوَایَۃً عَنْ أَحْمَدَ''۔ [1]
''کہا گیا ہے:''وہ [یعنی باجماعت نماز] صرف [سنّت مؤکَّدہ] ہے۔ (امام) ابوحنیفہ کے (سب) اصحاب،امام مالک کے اکثر اصحاب اور (امام) شافعی کے اصحاب کی ایک بڑی تعداد کے (موقف کے) متعلق یہی بات مشہور ہے۔ (امام) احمد سے (بھی) ایک روایت اسی طرح ذکر کی گئی ہے۔''
تنبیہ:
[سنّت مؤکَّدہ] کے متعلق یہ سمجھنا،کہ [اس کے ترک میں کچھ گناہ نہیں] نادرست ہے،کیونکہ اس طرح اس میں اور [سنّت] میں کچھ فرق نہ رہے گا۔
اس بارے میں صحیح بات یہ ہے،کہ اس سے مراد یہ ہے،کہ [اسے کرنے سے ثواب اور چھوڑنے سے گناہ ہوتا ہے۔]
امام ابن قیم رقم طراز ہیں:
'' وَقَالَتِ الْحَنَفِیَّۃُ وَالْمَالِکِیَّۃُ:''ہِيَ سُنَّۃٌ مُؤَکَّدَۃٌ''،وَلٰکِنَّہُمْ یُؤَثِّمُوْنَ تَارِکَ السُّنَنِ الْمُؤَکَّدَۃِ،وَیُصَحِّحُوْنَ الصَّلَاۃَ بِدُوْنِہَا۔
وَالْخَلَافُ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَنْ قَالَ:''إِنَّہَا وَاجِبَۃٌ''،لَفْظِيٌّ،