فهرس الكتاب

الصفحة 238 من 302

شیخ رحمہ اللہ [فرضِ کفایہ] کے قول کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

'' إِذَا قُلْنَا إِنَّہَا فَرْضُ کِفَایَۃٍ،وَفِعْلُہَا مَنْ یَحْصُلُ بِہِ الشِّعَارُ،فَالظَّاہِرُ أَنَّہَا سُنَّۃٌ مُتَأَکِّدَۃٌ فِيْ حَقِّ غَیْرِہِ حَیْثُ یُکْرَہُ تَرْکُہَا أیْضًا کَمَا یُرْشِدُ لِذٰلِکَ أَیْضًا عُمُوْمُ قَوْلِہِمْ:

وَعُذْرُ تَرْکِہَا کَذَا وَکَذَا … إلخ

وَقَوْلُ الْمِنْہَاجِ:

'' وَلَا رُخْصَۃَ فِيْ تَرْکِہَا''۔ [1]

''جب ہم نے اسے [فرضِ کفایہ] کہا اور یہ کہ اسے اتنی تعداد میں لوگ ادا کریں،کہ (ان کے کرنے سے اسلامی) شعار قائم ہوجائے،تو ظاہر یہ ہے،کہ وہ باقی لوگوں کے حق میں [سنّت مؤکَّدہ] ہے،کیونکہ ان کے لیے اسے چھوڑنا مکروہ ہے۔

اس بات کا پتہ ان کے اس عمومی قول سے بھی چلتا ہے:

''اسے چھوڑنے کے لیے یہ،یہ عذر ہے۔… الخ

(اور اسی طرح) المنہاج کے الفاظ (سے بھی) :

''اسے ترک کرنے کی گنجائش نہیں۔''

شافعی علماء کے اقوال سے اخذ کردہ آٹھ نتائج

۔ا۔

ا:امام شافعی نے غیر معذور شخص کو باجماعت نماز ترک کرنے کی اجازت نہیں دی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت