امت کے مسلسل عمل کے حوالے سے بات یہ ہے،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ہمارے اس دن تک امت اس عمل پر مواظبت کررہی ہے اور اس کے چھوڑنے والے پر نکتہ چینی کرتی ہے۔امت کی اس طرح مداومت اس کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔
اس کے بعد علامہ کاسانی احناف کے عام مشایخ اور علامہ کرخی کے باہمی اختلاف کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
'' وَلَیْسَ ہٰذَا اِخْتِلَافًا فِيْ الْحَقِیْقَۃِ،بَلْ مِنْ حَیْثُ الْعِبَارَۃِ،لِأَنَّ السَّنَّۃَ الْمُؤَکَّدَۃَ وَالْوَاجِبَ سَوَائٌ خُصُوْصًا مَا کَانَ مِنْ شَعَائِرِ الْإِسْلَامِ۔أَ لَا تَرٰی أَنَّ الْکَرْخِيَّ سَمَّاہَا سُنَّۃً،ثُمَّ فَسَّرَہَا بِالْوَاجِبِ۔فَقَالَ:'' اَلْجَمَاعَۃُ سُنَّۃٌ لَا یُرَخَّصُ لِأَحَدٍ التَّأَخَّرُ عَنْہَا إِلَّا لِعُذْرٍ ''۔وَہُوَ تَفْسِیْرُ الْوَاجِبِ عِنْدَ الْعَامَّۃِ''۔ [1]
''حقیقت میں یہ اختلاف نہیں۔یہ تو لفظی نزاع ہے،کیوں کہ [سنّت مؤکَّدہ] اور [واجب] ایک جیسے ہوتے ہیں،خصوصًا جو (اعمال) اسلامی شعائر میں سے ہیں۔کیا آپ دیکھتے نہیں،کہ کرخی نے اسے [سنّت] کا نام دیا،پھر اس کی تفسیر [واجب] کے ساتھ کی ہے۔انہوں نے کہا:''جماعت [سنّت] ہے۔بلاعذر کسی کو اس سے پیچھے رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔'' عام (علماء) کے نزدیک یہی [واجب] کی تفسیر ہے۔''
ج:علامہ برہان الدین مرغینانی [2] کا قول:
'' اَلْجَمَاعَۃُ سُنَّۃٌ مُؤَکَّدَۃٌ لقولہ علیہ السلام:''اَلْجَمَاعَۃُ مِنْ
[2] علامہ برہان الدین مرغینانی: علی بن ابی بکر عبدالجلیل، فرغانی، مرغینانی، کتاب [ہدایہ] کے مؤلف، امام، فقیہ، محدث، مفسر، علوم وفنون کے جامع اور ماہر، زاہد، ادیب، شاعر، اختلافی مسائل میں کمال مہارت رکھنے والے، ۵۹۳ھ میں فوت ہوئے۔ (ملاحظہ ہو: الفوائد البہیۃ ص ۱۴۱؛ وتاج التراجم ص ۴۲) ۔