'' لَیَنْتَہِیَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِہِمِ الْجَمَاعَاتِ،أَوْ لَیَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ،ثُمَّ لَیَکُوْنُنَّ مِنَ الْغَافِلِیْنَ ''۔ [1]
''لوگ ضرور جماعتیں (یعنی باجماعت نمازیں) چھوڑنے سے باز آجائیں،وگرنہ اللہ تعالیٰ یقینا ان کے دلوں پر مہریں لگا دیں گے،پھر وہ ضرور غافل لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔''
ا:حدیث کی شرح:
علامہ عبدالرؤوف مناوی لکھتے ہیں:
'' مَعْنٰی ہٰذَا التَّرْدِیْدِ أَنَّ أَحَدَ الْأَمْرَیْنِ کَائِنٌ لَا مُحَالَۃَ:إِمَّا الْاِنْتِہَائُ عَنْ تَرْکِہَا أَوْ لَیَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ ''۔ [2]
''اس [تردید] [یعنی لفظ[أوْ] بمعنٰی [یَا] ] سے مراد یہ ہے،کہ دو میں سے ایک بات ضرور ہوگی:اسے (یعنی باجماعت نماز) ترک کرنے سے باز آنا یا اللہ تعالیٰ کا ان کے دلوں پر مہر لگانا۔''
ب:حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے تائیدی بیانات:
۱:حضراتِ ائمہ عبدالرزاق،ابن منذر،ابن ابی شیبہ اور ابن حزم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے فرمایا:
'' مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یُجِبْ لَمْ یُرِدْ خَیْرًا،وَلَمْ یُرَدْ بِہٖ''۔ [3]
[2] ملاحظہ ہو: فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ۵/ ۳۹۷۔
[3] مصنف عبدالرزاق، کتاب الصلاۃ، باب من سمع النداء، رقم الراویۃ ۱۹۱۷، ۱/ ۴۹۸؛ والأوسط في السنن والإجماع والاختلاف، کتاب الإمامۃ، ذکر تخوّف النفاق علٰی تارک شہود العشاء والصبح في جماعۃ، رقم الروایۃ ۱۹۰۳، ۴/ ۱۳۷؛ ومصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الصلوات، من قال: إذا سمع المنادي فلیجب، ۱/ ۳۴۵؛ والمحلّی ۴۸۵… مسألۃ … ۴/ ۲۷۴۔ الفاظِ روایت مصنف عبدالرزاق اور الأوسط کے ہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں [أولم] [یعنی [یا نہیں] ] ہے۔