فهرس الكتاب

الصفحة 67 من 302

تفاوت کی بنا پر ہوتا ہے۔وَاللّٰہُ تَعَالیٰ أَعْلَمُ۔ [1]

نمازِ باجماعت کی برتری کے اسباب:

محدّثین کرام نے با جماعت نماز کی اس فوقیت کے اسباب بیان کیے ہیں۔حافظ ابن حجر کے بیان کردہ اسباب درجِ ذیل ہیں:

۱: با جماعت نماز ادا کرنے کی نیت سے اذان کا جواب دینا۔

۲: اس کی خاطر اوّل وقت میں نکلنے میں جلدی کرنا۔

۳: مسجد کی طرف اطمینان و سکون سے چل کر جانا۔

۴: دعا کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہونا۔

۵: مسجد میں داخل ہونے پر [تحیّۃ المسجد] [2] ادا کرنا۔

(یہ پانچوں کام باجماعت نماز اد اکرنے کے ارادے سے سر انجام دے) ۔

۶: جماعت کا انتظار کرنا۔

۷: فرشتوں کا اس پر درود پڑھنا اور اس کے لیے استغفار کرنا۔

۸: ان کا اس کے لیے گواہی دینا۔

۹: اقامت کا جواب دینا۔ [3]

۱۰: اقامت کی وجہ سے شیطان کے بھاگ جانے کی بنا پر اس سے بچ جانا۔

۱۱: امام کے تکبیرِ تحریمہ کہنے کے انتظار میں رکنا۔

[2] یعنی مسجد میں داخل ہونے پر دو رکعتیں اد اکرنا۔

[3] اس بارے میں وارد شدہ حدیث ضعیف ہے۔ (ملاحظہ ہو: ضعیف سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، باب ما یقول إذا سمع الإقامۃ، رقم الحدیث ۱۰۴۔ ۵۷۸، ص ۵۱؛ وإرواء الغلیل، رقم الحدیث ۲۴۱، ۱/۲۵۸) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت