طور پر پتہ چلتا ہے۔
امام ابن خزیمہ نے مذکورہ بالا حدیث کے آخر میں حسبِ ذیل الفاظ روایت کیے ہیں:
'' فَیَقُوْلُوْنَ:''أَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ،وَتَرکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ،فَاغْفِرْلَہُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ۔'' [1]
''پس وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں:'' ہم ان کے پاس پہنچے،تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (جب) ہم ان سے جدا ہوئے،تو وہ حالتِ نماز میں تھے۔سو آپ انہیں روزِ قیامت معاف فرما دیجئے۔''
تینوں روایات کے متعلق پانچ باتیں:
۱:فرشتوں کا کسی نماز میں جمع ہونا،بلاشبہ اس نماز کی خصوصی فضیلت کی دلیل ہے۔امام بخاری نے پہلی حدیث درجِ ذیل عنوان کے ضمن میں روایت کی ہے:
[بَابُ فَضْلِ صَلَاۃِ الْفَجْرِ فِيْ جَمَاعَۃٍ] [2]
[با جماعت نمازِ فجر کی فضیلت کے متعلق باب] ۔
ب:امام نووی نے دوسری حدیث پر (دیگر احادیث کے ساتھ) حسبِ ذیل عنوان لکھا ہے:
[2] صحیح البخاري ۲؍۱۳۷۔