فهرس الكتاب

الصفحة 190 من 302

کے نقشِ قدم پر چلا دیجیے۔إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ۔

۸:قتل کیے جانے کے خدشے کے باوجود مسجد جانا:

حضرت سعید بن مسیَّب رحمہ اللہ سے کہا گیا:

'' إِنَّ طَارِقًا یُرِیْدُ قَتْلَکَ،فَتَغَیَّبْ ''۔

''بے شک طارق آپ کو قتل کرنا چاہتا ہے،لہٰذا آپ چُھپ جائیے۔''

انہوں نے جواب میں فرمایا:

'' أَبِحَیْثُ لَا یَقْدِرُ اللّٰہُ عَلَيَّ ''۔

''کیا ایسی جگہ،جہاں اللہ تعالیٰ مجھ پر قدرت نہ رکھتے ہو؟''

ان سے عرض کیا گیا:

'' اِجْلِسْ فِيْ بَیْتِکَ ''۔

''اپنے گھر (ہی) میں بیٹھ جائیے۔''

انہوں نے فرمایا:

'' أَسْمَعُ [حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ] فَلَا أُجِیْبُ ''۔ [1]

'' [میں حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ] سنوں اور قبول نہ کروں۔'' [یعنی یہ سن کر مسجد نہ آؤں۔ایسا کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔]

اللہ اکبر! یہ پاک باز لوگ [حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ] کے معانی سمجھنے اور اس کے ذریعے ملنے والے حکم کی تعمیل کا حق ادا کرنے والے تھے۔رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی رَحْمَۃً وَاسِعَۃً۔

۹:نمازِ باجماعت کے انتظار میں مسجد میں مرنے کی تمنّا:

امام ابن مبارک نے عطاء بن سائب کے حوالے سے روایت نقل کی ہے،کہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت