فهرس الكتاب

الصفحة 265 من 302

ز:ڈاکٹر صالح بن فوزان الفوزان [1] کا قول:

'' فَصَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ فَرْضٌ عَلَی الرِّجَالِ فِيْ الْحَضْرِ وَالسَّفَرِ،وَفِيْ حَالِ الْأَمَانِ وَالْخَوْفِ وُجُوْبًا عَیْنِیًّا،وَالدَّلِیْلُ عَلٰی ذٰلِکَ الْکِتَابُ وَالسُّنَّۃُ وَعَمَلُ الْمُسْلِمِیْنَ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ،خَلَفًا عَنْ سَلَفٍ''۔ [2]

''باجماعت نماز مردوں پر حضروسفر،امن وخوف میں [واجب عینی] ہے۔کتاب وسنّت اور سلف سے لے کر خلف تک صدیوں میں پھیلا ہوا عمل اس بات کی دلیل ہے۔''

بلادِ مقدّسہ کے علمائے کرام کے فتاویٰ سے ماخوذ چودہ باتیں:

ا:مساجد میں نماز باجماعت ادا کرنا [واجب عینی] ہے۔

ب:کتاب وسنّت اور صدیوں میں پھیلا ہوا سلف سے خلف تک کا عمل اس کی دلیل ہے۔

ج:استطاعت کے باوجود اسے مسجد میں ادا نہ کرنے والا اللہ تعالیٰ اور ان کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان،گناہ گار اور مجرم ہے۔

د:پڑھائی کی مشغولیت کی بنا پر اسے چھوڑنا جائز نہیں۔

ہ:کاروباری مصلحت کے پیش نظر اسے دکان میں ادا کرنے کی اجازت نہیں۔

و:والد کے اسے دکان میں ادا کرنے کے حکم کی تعمیل نہیں کی جائے گی۔

[2] الملخص الفقہي ۱/ ۱۹۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت