ز:ڈاکٹر صالح بن فوزان الفوزان [1] کا قول:
'' فَصَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ فَرْضٌ عَلَی الرِّجَالِ فِيْ الْحَضْرِ وَالسَّفَرِ،وَفِيْ حَالِ الْأَمَانِ وَالْخَوْفِ وُجُوْبًا عَیْنِیًّا،وَالدَّلِیْلُ عَلٰی ذٰلِکَ الْکِتَابُ وَالسُّنَّۃُ وَعَمَلُ الْمُسْلِمِیْنَ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ،خَلَفًا عَنْ سَلَفٍ''۔ [2]
''باجماعت نماز مردوں پر حضروسفر،امن وخوف میں [واجب عینی] ہے۔کتاب وسنّت اور سلف سے لے کر خلف تک صدیوں میں پھیلا ہوا عمل اس بات کی دلیل ہے۔''
بلادِ مقدّسہ کے علمائے کرام کے فتاویٰ سے ماخوذ چودہ باتیں:
ا:مساجد میں نماز باجماعت ادا کرنا [واجب عینی] ہے۔
ب:کتاب وسنّت اور صدیوں میں پھیلا ہوا سلف سے خلف تک کا عمل اس کی دلیل ہے۔
ج:استطاعت کے باوجود اسے مسجد میں ادا نہ کرنے والا اللہ تعالیٰ اور ان کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان،گناہ گار اور مجرم ہے۔
د:پڑھائی کی مشغولیت کی بنا پر اسے چھوڑنا جائز نہیں۔
ہ:کاروباری مصلحت کے پیش نظر اسے دکان میں ادا کرنے کی اجازت نہیں۔
و:والد کے اسے دکان میں ادا کرنے کے حکم کی تعمیل نہیں کی جائے گی۔
[2] الملخص الفقہي ۱/ ۱۹۳۔