فهرس الكتاب

الصفحة 266 من 302

ز:ایسے والد کو نرمی سے نصیحت کی جائے گی اور محقّقین علماء کے فتاویٰ سے آگاہ کیا جائے گا۔

ح:مساجد میں باجماعت نماز ترک کرنا ایسی بُرائی ہے،جس سے منع کرنا واجب ہے۔

ط:ہر مسلمان پر واجب ہے،کہ وہ اپنے بیٹوں،کنبے کے دیگر افراد،پڑوسیوں اور مسلمان بھائیوں کو اس کی تلقین کرے۔

ی:کسی مسلمان کے لیے شب بھر قرآنِ مجید کی تلاوت اور طلبِ علم کی خاطر بیدار رہ کر نمازِ فجر ضائع کرنے کی اجازت نہیں۔

ک:رات بھر ٹیلی ویژن دیکھنے یا تاش کھیلنے میں مشغول رہ کر نمازِ فجر ضائع کرنے والا گناہ گار اور سزا کا مستحق ہے۔

ل:اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے،کہ ایسے شخص کو سزا دے کر اسے نمازِ فجر ضائع کرنے سے منع کرے۔

م:اہلِ علم کی ایک جماعت کے نزدیک نمازِ فجر عمدًا طلوعِ آفتاب کے بعد تک مؤخر کرنا [کفرِ اکبر] ہے۔

ن:ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے،کہ وہ ایسی باتوں سے دور رہے،جو نمازِ فجر مسجد میں باجماعت ادا کرنے میں اس کے لیے رکاوٹ بنیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت