فهرس الكتاب

الصفحة 228 من 302

وَکَذٰلِکَ صَرَّحَ بَعْضُہُمْ بِالْوُجُوْبِ ''۔ [1]

''احناف اور مالکیوں نے کہا ہے:''وہ (یعنی باجماعت نماز) [سنّت مؤکَّدہ] ہے''،لیکن ان کے نزدیک [مؤکَّدہسنتوں] کا تارک گناہ گار ہوتا ہے۔ (البتہ ان کے نزدیک) نماز اس (یعنی جماعت) کے بغیر (بھی) ہوجاتی ہے۔

(اس طرح) ان کے اور اسے [واجب] قرار دینے والے کے درمیان نزاع (صرف) لفظی ہے۔ [2] (مزید برآں) ان (یعنی حنفی اور مالکی علماء) میں سے بعض نے اسے [واجب] قرار دیا ہے۔''

۔ج۔

شافعی علماء کا موقف

توفیقِ الٰہی سے پہلے شافعی علمائے کرام کے اقوال،پھر ان سے اخذ کردہ نتائج تحریر کیے جائیں گے:

۔۱۔شافعی علمائے کرام کے اقوال

۱:امام شافعی کے اقوال:

''میں صاحبِ استطاعت کو بلا عذر باجماعت نماز کے لیے آنے کو چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔''

[2] کیونکہ دونوں آراء کا نتیجہ یہ ہے، کہ باجماعت نماز کا تارک گناہ گار ہے۔

[3] کتاب الأم ۱/ ۱۵۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت